دریا بردہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - دریا میں ڈوبا ہوا، غرقاب۔      "زمین نرم دریا بردہ مٹی کی ایک دبیز تر سے مرتب ہے اس لیے یہ قدرتی طور پر نہایت زرخیز ہے۔"     رجوع کریں:   ( ١٩٨٧ء، پاکستان کا معاشی و تجارتی جغرافیہ، ١٢ )

اشتقاق

فارسی سے مرکب 'دریا برد' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے 'دریا بردہ' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٩٧٨ء سے "پاکستان کا معاشی و تجارتی جغرافیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دریا میں ڈوبا ہوا، غرقاب۔      "زمین نرم دریا بردہ مٹی کی ایک دبیز تر سے مرتب ہے اس لیے یہ قدرتی طور پر نہایت زرخیز ہے۔"     رجوع کریں:   ( ١٩٨٧ء، پاکستان کا معاشی و تجارتی جغرافیہ، ١٢ )